MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کسی کا ہاتھ دامن پر کسی کا سر گریباں میں

غزل

کسی کا ہاتھ دامن پر کسی کا سر گریباں میں
یہ دیوانے بھی گل چھرے اڑاتے ہیں بیاباں میں

سما کر رہ گیا ہر ان کا جلوہ قلب سوزاں میں
کہاں سے اتنی وسعت آ گئی اس تنگ داماں میں

سلیقہ خاک اڑانے کا بڑی مشکل سے آتا ہے
بگولے سر پٹک کر رہ گئے آخر بیاباں میں

ہنسی کلیوں کے لب پر ہے قبائے گل کے ٹکڑے ہیں
سبھی پر چھا گئی دیوانگی اب کے گلستاں میں

قریب آیا زمانہ جب بھی عہد گل کی رخصت کا
الجھ کر رہ گیا دست جنوں تار گریباں میں

سویدا بت کدہ ہے دل حرم نظریں پجاری ہیں
یہاں تفریق بھی کچھ ہے تو یہ ہے کفر و ایماں میں

اقامت کے لیے کیا وسعت کونین کچھ کم تھی
عبث انگڑائی لی تم نے دل نظارہ ساماں میں

جو آنکھوں سے لگائے گل تو کانٹے رکھ لئے دل میں
مجھے دونوں ہی سے قیصرؔ علاقہ تھا گلستاں میں

قیصر حیدری دہلوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم