MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

بس اب ہم سے دل شوریدہ سر دیکھا نہیں جاتا

غزل

بس اب ہم سے دل شوریدہ سر دیکھا نہیں جاتا
یہ تڑپانا تڑپنا رات بھر دیکھا نہیں جاتا

ہمیں ترکیب ہی نظارۂ رخ کی نہیں آتی
کہ وہ ہیں دیکھنے کی شے مگر دیکھا نہیں جاتا

خدا جرأت نہ دے مجھ کو کسی دن لب کشائی کی
کہ مجھ سے نالۂ محروم اثر دیکھا نہیں جاتا

خدا نے شرم رکھ لی ذوق نظارہ کی محفل میں
نہ جانے کیا ستم ہوتا اگر دیکھا نہیں جاتا

کسی گوشے میں دل کے ڈھونڈ اس کے حسن یکجا کو
وہ شمع شوق لے کر در بدر دیکھا نہیں جاتا

بڑی مدت سے پیدا کر رہا ہوں شوق نظارہ
باطمینان دل اب بھی ادھر دیکھا نہیں جاتا

نہیں معلوم قیصرؔ عشق ہی اتنا برا کیوں ہے
میری سمت ان سے جب کہ اک نظر دیکھا نہیں جاتا

قیصر حیدری دہلوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم