MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

مدعا دل کا کبھی لب آشنا ہوتا نہیں

غزل

مدعا دل کا کبھی لب آشنا ہوتا نہیں
عشق کا مفہوم لفظوں میں ادا ہوتا نہیں

حسن والوں کا کرم دل پر روا ہوتا نہیں
یہ خبر ہوتی تو ان پر مبتلا ہوتا نہیں

موت سے بد تر ہے تیرے آسرے پر زندگی
کاش کوئی زندگی کا آسرا ہوتا نہیں

آپ کے ہم راہ سب دامن کشاں ہونے لگے
آج دل میں درد بھی کل سے سوا ہوتا نہیں

ہجر کا غم ہر گھڑی ہے ساتھ سائے کی طرح
یعنی تاریکی میں بھی مجھ سے جدا ہوتا نہیں

میں گدائے کوئے جاناں ہوں تو سب ہیں طعنہ زن
ورنہ قیصرؔ عالم امکاں میں کیا ہوتا نہیں

قیصر حیدری دہلوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم