MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کاہے کو ایسے ڈھیٹ تھے پہلے جھوٹی قسم جو کھاتے تم

غزل

کاہے کو ایسے ڈھیٹ تھے پہلے جھوٹی قسم جو کھاتے تم
غیرت سے آ جاتا پسینا آنکھ نہ ہم سے ملاتے تم

حیف تمہیں فرصت ہی نہیں ہے ورنہ کیا کیا حسرت تھی
حال ہمارا کچھ سن لیتے کچھ حال اپنا سناتے تم

ننگ ہے ملنا عار تکلم ایک زمانہ ایسا تھا
بزم میں اپنی ہم کو بلا کر عزت سے بٹھلاتے تم

ہم وہ نہیں یا تم وہ نہیں تم ہنستے ہو اور ہم روتے ہیں
یا ہچکی الٹی جاتی تھی جتنا ہمیں سمجھاتے تم

وضع بھی کوئی شے ہے آخر دل کو اثرؔ سمجھانا تھا
در سے کسی کے اک بار اٹھ کر کاش دوبارہ نہ جاتے تم

اثر لکھنؤئ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم