MOJ E SUKHAN

آپ بک جائے کوئی ایسا خریدار نہ تھا

غزل

 

آپ بک جائے کوئی ایسا خریدار نہ تھا
میرے یوسف کے لئے مصر کا بازار نہ تھا

خوں ہوا اشک بنا اور مژہ سے ٹپکا
دل کہ لذت کش رنگینیٔ انکار نہ تھا

مبتلا ہوں ترا جب سے صنم کفر فروش
زلف تا دوش نہ تھی دوش پہ زنار نہ تھا

قصۂ طور کبھی گوش حقیقت سے سنو
شوق دیدار بجز حسرت دیدار نہ تھا

غازۂ چہرۂ گل نقش و نگار ہستی
کوئی قطرہ دل خوں گشتہ کا بے کار نہ تھا

لے گئی وحشت دل کل مجھے اس عالم میں
بیش از نقطہ جہاں گنبد دوار نہ تھا

لذت درد سے واقف تھا دل زار اثرؔ
ورنہ مر جانا ترے ہجر میں دشوار نہ تھا

اثر لکھنؤئ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم