MOJ E SUKHAN

نگہ شوق کو یوں آئنہ سامانی دے

غزل

نگہ شوق کو یوں آئنہ سامانی دے
عشق کو حسن بنا حسن کو حیرانی دے

دل نوازی میں بھی ایذا ہے محبت کی قسم
تجھ کو فرصت جو کبھی شغل ستم رانی دے

کچھ تری چشم سخن ساز کا ایما نہ کھلا
لب مے نوش کو تکلیف گل افشانی دے

پھول وہ ہے جو میسر چڑھے یہ سنتا تھا
اب کھلا دل کی رہ عشق میں قربانی دے

آئنہ سنگ در دوست ہوا بھی تو کیا
سر جو سجدے میں جھکے لو تری پیشانی دے

اف وہ پرکار جو سنتے ہی تغافل کا گلہ
عشوہ و ناز کو تعلیم پشیمانی دے

دل بیتاب تماشا کی تسلی معلوم
اپنے ہر جلوے کو اک پیکر انسانی دے

اس کی انگڑائی کا عالم تو کبھی دیکھ اے گل
اور ہی حسن تری چاک گریبانی دے

آؤ شیرازۂ ہستی کو پریشاں کر دیں
یوں کہ اس زلف کو پیغام پریشانی دے

تیری سرکار غنی تیرا گدا بھی ہے غنی
کچھ نہ دے اور جو دے غم کی فراوانی دے

اس توقع پہ ہوں خاموش کہ وہ شوخ نگاہ
پھر ٹہوکا پئے تقریب غزل خوانی دے

اثر لکھنؤئ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم