MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

آہ سے جب دل میں ڈوبے تیر ابھارے جائیں گے

غزل

آہ سے جب دل میں ڈوبے تیر ابھارے جائیں گے
دیکھ لینا دور تک اڑ کر شرارے جائیں گے

موج طوفاں کو جنہوں نے چیرنا سیکھا نہیں
اس کنارے سے بھلا کیا اس کنارے جائیں گے

اتنی ہی رنگین ہوتی جائے گی اپنی نظر
جس قدر تیرے تصور کو سنوارے جائیں گے

کچھ نہ کچھ ہو ہی رہے گا درد مندی کا مآل
جان کے دشمن تجھی کو ہم پکارے جائیں گے

خاک ہو کر بھی نہ آئے گا انہیں دم بھر قرار
اٹھ کے تیرے در سے جو آفت کے مارے جائیں گے

ایک حرف دل نشیں! یہ بھی نہیں تو اک نگاہ
دور جانے والے کیوں کر بے سہارے جائیں گے

بیٹھے ساحل پر گنا کرتے ہیں جو لہریں اثرؔ
وقت پڑنے پر بھلا کیا دھارے دھارے جائیں گے

اثر لکھنوئ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم