MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

چھوڑو قصّہ پُرانا کچھ نئی بات کرو

غزل چھوڑو قصّہ پُرانا کچھ نئی بات کرو لوگوں کو تم اب بھُولو مری بات کرو ناسمجھی اب جانے بھی دو میرے دوست تم پھر عقل کی کوئی تو کبھی بات کرو ناز اُٹھائے ہیں میں نے تیرے کتنے سب کے سامنے مانو پھر یہی بات کرو راز نہ کھولو سارے زمانے کے آگے دنیا […]

چھوڑو قصّہ پُرانا کچھ نئی بات کرو Read More »

تُو ہوا دربدر اب مجھے یاد کر

غزل تُو ہوا دربدر اب مجھے یاد کر درد سے آگزر اب مجھے یاد کر خوبصورت سماں میری یادیں حسیں غم بھُلا صبر کر اب مجھے یاد کر کھوجتے کھوجتے مجھ کو اب ہر جگہ کھوگئی کیا نظر؟ اب مجھے یاد کر وا کیا زیست کا در ترے واسطے گُم گیا پھر یہ در اب

تُو ہوا دربدر اب مجھے یاد کر Read More »

ہیں خواب گُم ، خیال گُم ، حواس گُم

غزل ہیں خواب گُم ، خیال گُم ، حواس گُم کہاں کہاں ہوا مرا قیاس گُم زمانے میں جو بے بسی ہے پھیلی اب کہ ہوگیا مرا نظر شناس گُم خیال یہ ستا رہا ہے اب مجھے کہ ہو نہ جائے آدمی کی آس گُم نہ بدلے ہم تو ایک دن وہ آئے گا ہے

ہیں خواب گُم ، خیال گُم ، حواس گُم Read More »

تمہارے اشکوں سے میں دل کو صاف کرتی ہوں

غزل تمہارے اشکوں سے میں دل کو صاف کرتی ہوں میں آج ابھی تمہیں دل سے معاف کرتی ہوں مری حیات میں تم آگئے ہو بن کے شمع تمہارے گِرد ہمیشہ طواف کرتی ہوں خطاؤں کو نظر انداز کیوں کیا تیری مرا قصور ہے میں اعتراف کرتی ہوں نہ کرسکوں میں بُرائی کسی کی یا

تمہارے اشکوں سے میں دل کو صاف کرتی ہوں Read More »

ترے فراق میں جو چشمِ تر ہوئی میری

غزل ترے فراق میں جو چشمِ تر ہوئی میری یہ زندگی تو غموں میں بسر ہوئی میری نہیں تھے تم متوجّہ اگر مری جانب بتاؤ کیسے تمہیں کب خبر ہوئی میری؟ کی اِلتجا میں نے ربّ کریم سے آخر کہ زندگی کی یہاں پھر سحر ہوئی میری خدا کا شکر ہے اشکوں کا رُک گیا

ترے فراق میں جو چشمِ تر ہوئی میری Read More »

کیا جانے کہاں لے گئی تنہائی ہماری

غزل   کیا جانے کہاں لے گئی تنہائی ہماری مدت ہوئی کچھ بھی نہ خبر آئی ہماری اس دشت گم آثار میں آنے کے نہیں ہم ہے اور کہیں بادیہ پیمائی ہماری اس راہ سے ہم بچ کے نکل آئے وگرنہ بیٹھی تھی کمیں گاہ میں رسوائی ہماری رہ رہ کے جو تصویر چمکتی ہے

کیا جانے کہاں لے گئی تنہائی ہماری Read More »

سر بسر پیکر اظہار میں لاتا ہے مجھے

غزل سر بسر پیکر اظہار میں لاتا ہے مجھے اور پھر خود ہی تہ خاک چھپاتا ہے مجھے کب سے سنتا ہوں وہی ایک صدائے خاموش کوئی تو ہے جو بلندی سے بلاتا ہے مجھے رات آنکھوں میں مری گرد سیہ ڈال کے وہ فرش بے خوابئ وحشت پہ سلاتا ہے مجھے گم شدہ میں

سر بسر پیکر اظہار میں لاتا ہے مجھے Read More »

بدن سراب نہ دریائے جاں سے ملتا ہے

غزل بدن سراب نہ دریائے جاں سے ملتا ہے تو پھر یہ خواب کنارہ کہاں سے ملتا ہے یہ دھوپ چھاؤں سلامت رہے کہ تیرا سراغ ہمیں تو سایۂ ابر رواں سے ملتا ہے ہم اہل درد جہاں بھی ہیں سلسلہ سب کا تمہارے شہر کے آشفتگاں سے ملتا ہے جہاں سے کچھ نہ ملے

بدن سراب نہ دریائے جاں سے ملتا ہے Read More »

ادھر سے آئے تو پھر لوٹ کر نہیں گئے ہم

غزل ادھر سے آئے تو پھر لوٹ کر نہیں گئے ہم پکارتی رہی دنیا مگر نہیں گئے ہم اگرچہ خاک ہماری بہت ہوئی پامال برنگ نقش کف پا ابھر نہیں گئے ہم حصول کچھ نہ ہوا جز غبار حیرانی کہاں کہاں تری آواز پر نہیں گئے ہم منا رہے تھے وہاں لوگ جشن بے خوابی

ادھر سے آئے تو پھر لوٹ کر نہیں گئے ہم Read More »

یوں ہی کب تک اوپر اوپر دیکھا جائے

غزل یوں ہی کب تک اوپر اوپر دیکھا جائے گہرائی میں کیوں نہ اتر کر دیکھا جائے تیز ہوائیں یاد دلانے آئی ہیں نام ترا پھر ریت پہ لکھ کر دیکھا جائے شور حریم ذات میں آخر اٹھا کیوں اندر دیکھا جائے کہ باہر دیکھا جائے گاتی موجیں شام ڈھلے سو جائیں گی بعد میں

یوں ہی کب تک اوپر اوپر دیکھا جائے Read More »