MOJ E SUKHAN

بدن سراب نہ دریائے جاں سے ملتا ہے

غزل

بدن سراب نہ دریائے جاں سے ملتا ہے
تو پھر یہ خواب کنارہ کہاں سے ملتا ہے

یہ دھوپ چھاؤں سلامت رہے کہ تیرا سراغ
ہمیں تو سایۂ ابر رواں سے ملتا ہے

ہم اہل درد جہاں بھی ہیں سلسلہ سب کا
تمہارے شہر کے آشفتگاں سے ملتا ہے

جہاں سے کچھ نہ ملے تو بھی فائدے ہیں بہت
ہمیں یہ نقد اسی آستاں سے ملتا ہے

فضا ہی ساری ہوئی سرخ رو تو حیرت کیا
کہ آج رنگ ہوا گل رخاں سے ملتا ہے

بچھڑ کے خاک ہوئے ہم تو کیا ذرا دیکھو
غبار جا کے اسی کارواں سے ملتا ہے

احمد محفوظ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم