MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

چرچا اس عالمین میں جس کی ادا کا تھا

غزل چرچا اس عالمین میں جس کی ادا کا تھا آئینہ میرے پاس اسی مہ لقا کا تھا جس کے ہزار جان فدائی ہیں دہر میں چہرہ نگاہ میں اسی گلگوں قبا کا تھا جھکتا نہ کیسے سامنےاس کا سرِ غرور جب مسلۂ نگاہ میں میری انا کا تھا آتا نہ کیسے لوٹ کے پھر […]

چرچا اس عالمین میں جس کی ادا کا تھا Read More »

وہ ہے حیرت فزائے چشم معنی سب نظاروں میں

غزل وہ ہے حیرت فزائے چشم معنی سب نظاروں میں تڑپ بجلی میں اس کی اضطراب اس کا ستاروں میں مدد اے اضطراب شوق تو جان تمنا ہے نکل اے صبر تیرا کام کیا ہے بے قراروں میں یہ کس کا نام لے کر جان دی بیمار الفت نے یہ کس ظالم کا چرچا رہ

وہ ہے حیرت فزائے چشم معنی سب نظاروں میں Read More »

غم کے ہاتھوں مرے دل پر جو سماں گزرا ہے

غزل غم کے ہاتھوں مرے دل پر جو سماں گزرا ہے حادثہ ایسا زمانے میں کہاں گزرا ہے زندگی کا ہے خلاصہ وہی اک لمحۂ شوق جو تری یاد میں اے جان جہاں گزرا ہے حال دل غم سے یہ ہے جیسے کسی صحرا میں ابھی اک قافلۂ نوحہ گراں گزرا ہے بزم دوشیں کو

غم کے ہاتھوں مرے دل پر جو سماں گزرا ہے Read More »

جو مشت خاک ہو اس خاکداں کی بات کرو

غزل جو مشت خاک ہو اس خاکداں کی بات کرو زمیں پہ رہ کے نہ تم آسماں کی بات کرو کسی کی تابش‌ رخسار کا کہو قصہ کسی کے گیسوئے عنبر فشاں کی بات کرو نہیں ہوا جو طلوع آفتاب تو فی الحال قمر کا ذکر کرو کہکشاں کی بات کرو رہے گا مشغلۂ یاد

جو مشت خاک ہو اس خاکداں کی بات کرو Read More »

مرے دل میں ہے کہ پوچھوں کبھی مرشد مغاں سے

غزل مرے دل میں ہے کہ پوچھوں کبھی مرشد مغاں سے کہ ملا جمال ساقی کو یہ طنطنہ کہاں سے وہ یہ کہہ رہے ہیں ہم کو ترے حال کی خبر کیا تو اٹھا سکا نگاہیں نہ بتا سکا زباں سے جو انہیں وفا کی سوجھی تو نہ زیست نے وفا کی ابھی آ کے

مرے دل میں ہے کہ پوچھوں کبھی مرشد مغاں سے Read More »

ہم نفسو اجڑ گئیں مہر و وفا کی بستیاں

غزل ہم نفسو اجڑ گئیں مہر و وفا کی بستیاں پوچھ رہے ہیں اہل مہر و وفا کو کیا ہوا عشق ہے بے گذار کیوں حسن ہے بے نیاز کیوں میری وفا کہاں گئی ان کی جفا کو کیا ہوا یہ تو بجا کہ اب وہ کیف جام شراب میں نہیں ساقی مے کے غمزۂ

ہم نفسو اجڑ گئیں مہر و وفا کی بستیاں Read More »

خرد میں مبتلا ہے سالکؔ دیوانہ برسوں سے

غزل خرد میں مبتلا ہے سالکؔ دیوانہ برسوں سے نہیں آیا وہ مے خانے میں بیباکانہ برسوں سے میسر جس سے آ جاتی تھی ساقی کی قدم بوسی مقدر میں نہیں وہ لغزش مستانہ برسوں سے بیاد چشم یار اک نعرۂ مستانہ اے ساقی کہ ہاؤ ہو سے خالی ہے ترا مے خانہ برسوں سے

خرد میں مبتلا ہے سالکؔ دیوانہ برسوں سے Read More »

چراغ زندگی ہوگا فروزاں ہم نہیں ہوں گے

غزل چراغ زندگی ہوگا فروزاں ہم نہیں ہوں گے چمن میں آئے گی فصل بہاراں ہم نہیں ہوں گے جوانو اب تمہارے ہاتھ میں تقدیر عالم ہے تمہیں ہوگے فروغ بزم امکاں ہم نہیں ہوں گے جئیں گے جو وہ دیکھیں گے بہاریں زلف جاناں کی سنوارے جائیں گے گیسوئے دوراں ہم نہیں ہوں گے

چراغ زندگی ہوگا فروزاں ہم نہیں ہوں گے Read More »

ہوا ہے سر میں سودا پھر کسی زلف پریشاں کا

غزل ہوا ہے سر میں سودا پھر کسی زلف پریشاں کا نہ دامن کی خبر ہم کو نہ ہوش اپنے گریباں کا کبھی جو دیکھ لیں محفل میں وہ ان ترچھی نظروں سے نظر آئے سماں اس وقت پھر گنج شہیداں کا وہ کرتے تو ہیں وعدہ روز لیکن وائے ناکامی نہیں ہے پاس ان

ہوا ہے سر میں سودا پھر کسی زلف پریشاں کا Read More »

قتل گہہ میں جب کسی سفاک کا خنجر اٹھا

غزل قتل گہہ میں جب کسی سفاک کا خنجر اٹھا واسطے تعظیم کے تن سے ہمارا سر اٹھا جب کبھی پہلو سے مجھ محزوں کے وہ دلبر اٹھا درد سینہ میں جگر میں دل میں رہ رہ کر اٹھا گرم جوشی سے رقیبوں کی ہوا ایسا ملال تیری محفل سے مثال شمع میں رو کر

قتل گہہ میں جب کسی سفاک کا خنجر اٹھا Read More »