چرچا اس عالمین میں جس کی ادا کا تھا
غزل چرچا اس عالمین میں جس کی ادا کا تھا آئینہ میرے پاس اسی مہ لقا کا تھا جس کے ہزار جان فدائی ہیں دہر میں چہرہ نگاہ میں اسی گلگوں قبا کا تھا جھکتا نہ کیسے سامنےاس کا سرِ غرور جب مسلۂ نگاہ میں میری انا کا تھا آتا نہ کیسے لوٹ کے پھر […]
چرچا اس عالمین میں جس کی ادا کا تھا Read More »