MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جو مشت خاک ہو اس خاکداں کی بات کرو

غزل

جو مشت خاک ہو اس خاکداں کی بات کرو
زمیں پہ رہ کے نہ تم آسماں کی بات کرو

کسی کی تابش‌ رخسار کا کہو قصہ
کسی کے گیسوئے عنبر فشاں کی بات کرو

نہیں ہوا جو طلوع آفتاب تو فی الحال
قمر کا ذکر کرو کہکشاں کی بات کرو

رہے گا مشغلۂ یاد رفتگاں کب تک
گزر رہا ہے جو اس کارواں کی بات کرو

یہی جہان ہے ہنگامہ زار سود و زیاں
یہیں کے سود یہیں کے زیاں کی بات کرو

اب اس چمن میں نہ صیاد ہے نہ ہے گلچیں
کرو تو اب ستم باغباں کی بات کرو

عبدالمجید سالک

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم