MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

مل جائے کوئی گھر جو ترے گھر کے آس پاس

غزل

مل جائے کوئی گھر جو ترے گھر کے آس پاس
دربان کی طرح میں رہوں در کے آس پاس

چاروں طرف ہجوم یہ کیوں حیرتوں کا ہے
کیا آئنہ لگے ہیں ترے گھر کے آس پاس

یوں مرغ دل ہے آتش فرقت کے درمیان
رہتی ہے آگ جیسے سمندر کے آس پاس

ہم مست مانگتے ہیں دعا یہ اٹھا کے ہاتھ
بیٹھیں مدام شیشہ و ساغر کے آس پاس

زیبا ہے منہ جو حلقۂ زلف سیہ میں ہو
ہالا ضرور ہے مہ انور کے آس پاس

شیداؔ جو ان کو گھیرے ہیں اغیار رات دن
کانٹوں کے بھی ہیں ڈھیر گل تر کے آس پاس

عبدالمجید خواجہ شیدا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم