MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

سنتا جو ہے کوئی مرے غنچہ دہن کی بات

غزل

سنتا جو ہے کوئی مرے غنچہ دہن کی بات
بھاتی نہیں ہے اس کو کسی گل بدن کی بات

ہر شخص کی زباں پہ ترا ذکر خیر ہے
خالی نہیں ہے تجھ سے کسی مرد و زن کی بات

غربت میں اپنا حال کہوں کیا میں دوستو
دل ٹوٹتا ہے سنتا ہوں جب میں وطن کی بات

دشت جنوں میں پھر ہمیں لے چل تو اے جنوں
پھر وحشیوں کے ساتھ ہو دیوانہ پن کی بات

جام شراب ناب تو بالائے طاق ہے
کرتی ہے مست ساقیٔ گل گوں بدن کی بات

وعدے وصال کے تو ہزاروں گزر گئے
اب کون مانے اس بت پیماں شکن کی بات

سنتے ہیں ان کی کاکل مشکیں کے وصف میں
ہم گوش دل سے اہل خطا و ختن کی بات

عبدالمجید خواجہ شیدا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم