MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

وہ شخص مجھے جب سے دکھائی نہیں دیتا

غزل

وہ شخص مجھے جب سے دکھائی نہیں دیتا
آنکھیں ہیں مگر کچھ بھی سجھائی نہیں دیتا

خیرات میں دے دیتے ہیں رہ گیر کو جتنی
اتنی بھی محبت مجھے بھائی نہیں دیتا

ان چیختی چلاتی ہوئی گلیوں کا ماتم
دانستہ حویلی کو سنائی نہیں دیتا

اک عرصہ ہوا دل سے مری بنتی نہیں ہے
دل مجھ کو کہ میں دل کو سنائی نہیں دیتا

سینے میں کبھی حشر اٹھا رکھا تھا دل نے
اب شور قیامت بھی سنائی نہیں دیتا

اس دل کو بنا رکھا ہے کس مٹی سے یا رب
جو جبر بھی سہتا ہے دہائی نہیں دیتا

نصیر بلوچ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم