غزل
وہ شخص مجھے جب سے دکھائی نہیں دیتا
آنکھیں ہیں مگر کچھ بھی سجھائی نہیں دیتا
خیرات میں دے دیتے ہیں رہ گیر کو جتنی
اتنی بھی محبت مجھے بھائی نہیں دیتا
ان چیختی چلاتی ہوئی گلیوں کا ماتم
دانستہ حویلی کو سنائی نہیں دیتا
اک عرصہ ہوا دل سے مری بنتی نہیں ہے
دل مجھ کو کہ میں دل کو سنائی نہیں دیتا
سینے میں کبھی حشر اٹھا رکھا تھا دل نے
اب شور قیامت بھی سنائی نہیں دیتا
اس دل کو بنا رکھا ہے کس مٹی سے یا رب
جو جبر بھی سہتا ہے دہائی نہیں دیتا
نصیر بلوچ