MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

مارا اس شرط پہ اب مجھ کو دوبارہ جائے

غزل

مارا اس شرط پہ اب مجھ کو دوبارہ جائے
نوک نیزہ سے مرا سر نہ اتارا جائے

شام سے پہلے کسی ہجر میں مر جائے گا
سورج اک بار مرے دل سے گزارا جائے

اس کی یہ ضد کہ مرا قتل پس پردہ ہو
مری خواہش مجھے بازار میں مارا جائے

اس کے آنے کی بھی امید عبث لگتی ہے
اس کو جانا ہے تو پھر سارے کا سارا جائے

میں زمیں زاد ہوں اے چاند نگر کے باسی
اس بلندی سے نہ پھر مجھ کو پکارا جائے

میں بہر شکل ترے دل میں اترنا چاہوں
ٹھہرے دریا تو سمندر میں کنارہ جائے

نصیر بلوچ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم