MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

وہی انداز جہان گزراں ہے کہ جو تھا

غزل

وہی انداز جہان گزراں ہے کہ جو تھا
ان نگاہوں سے وہی راز عیاں ہے کہ جو تھا

وہی رندوں کی سیہ نوشیٔ درد تہہ جام
وہی نظارہ سر کوئے مغاں ہے کہ جو تھا

ہائے اس کیف نخستیں کی خمار انگیزی
تری آنکھوں میں وہی خواب جواں ہے کہ جو تھا

وہی ترغیب تمنا کی چمن آرائی
اور پہلو میں وہی قلب تپاں ہے کہ جو تھا

لذت شوق کا انفاس میں نم باقی ہے
مرے سینے میں وہی سوز نہاں ہے کہ جو تھا

انقلابات ابھی گردش ایام میں ہیں
ترے جلووں میں وہی سحر رواں ہے کہ جو تھا

ذوق وارفتہ کی اصنام گری مٹ نہ سکی
حائل راہ وہی سنگ گراں ہے کہ جو تھا

وہی آشفتہ نگاہی وہی صحرا طلبی
وہی اک معرکۂ سود و زیاں ہے کہ جو تھا

عبدالعزیز خالد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم