MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

شکایت بے وفائی کی نہ کر دنیائے فانی میں

غزل

شکایت بے وفائی کی نہ کر دنیائے فانی میں
وفا کا نام باقی ہے فقط قصے کہانی میں

جو مرنا تھا تو آخر کیوں نہ موت آئی جوانی میں
دل زندہ کو بیٹھا رو رہا ہوں زندگانی میں

کسی کے گوشہ ابرو سے کیا ارشاد ہوتا ہے
کوئی کچھ عرض کرتا ہے زبان بے زبانی میں

وفور شوق میرا مانع دیدار تھا ورنہ
جھلک تھی خود نمائی کی صدائے لن ترانی میں

فسون شوق بڑھ کر ہو گیا افسانہ رنگیں
جگر کا خون جب حل ہو گیا اشکوں کے پانی میں

محبت ہی خدائے لم یزل معلوم ہوتی ہے
اسی کو تو بقا حاصل ہے اس دنیائے فانی میں

چمن میں زندگانی کے بہار آئی خزاں بن کر
محبت نے لگائی آگ دل کو نوجوانی میں

تعجب کیا اگر مجھ کو محبت پھر جواں کر دے
جھلک ہے حسن یوسف کی زلیخا کی جوانی میں

جو دل میں درد اٹھتا ہے تو بیخودؔ شعر کہتا ہے
مدد اشکوں سے ملتی ہے طبیعت کو روانی میں

عباس علی خان بیخود

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم