MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

مزا آتا کسی صورت اگر ترک وفا ہوتا

غزل

مزا آتا کسی صورت اگر ترک وفا ہوتا
تمہاری طرح میں بھی بے وفا ہوتا تو کیا ہوتا

مصیبت ہو گئی آخر تمنا کی گرفتاری
اگر بے مدعا ہوتا تو بندہ بھی خدا ہوتا

یہ شان بے نیازی ہے خدا معلوم ہوتا ہے
خدا معلوم کیا ہوتا اگر وہ بت خدا ہوتا

نہ رہتا یوں پریشاں رات دن میں فکر درماں میں
جو مجھ کو درد دینا تھا تو بے درماں دیا ہوتا

ہماری ناامیدی کا تو ہے الزام قسمت پر
تمہارا مدعا ہوتا تو منظور خدا ہوتا ہوتا

کسی کے پاس دل ہوتا تو شرح درد دل کرتے
یہ حسرت رہ گئی ہم کو کوئی درد آشنا ہوتا

ازل سے سوختہ ساماں ہوں فکر آشیاں کیا ہو
نہ گرتی برق تو یہ سوز دل سے جل گیا ہوتا

نہ مجھ سے التجا ہوتی نہ خود وہ مہرباں ہوتے
گزر ہوتا بھی ان کی بزم میں اپنا تو کیا ہوتا

دم آخر مریض غم خدا معلوم کیا کہتا
نہ ہوتے مہرباں سن کر مگر سن تو لیا ہوتا

ہماری بے کسی بھی اک نہ اک دن کام آ جاتی
اگر بیخودؔ کوئی ہم بے کسوں کا بھی خدا ہوتا

عباس علی خان بیخود

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم