MOJ E SUKHAN

کہیں پہ چاند جگنو اور ستارے میں نے لکھے تھے – Kahin pe chand Jugnoo or sitare maine likhe thy

کہیں پہ چاند جگنو اور ستارے میں نے لکھے تھے
اندھیرے میں کئی روشن نظارے میں نے لکھے تھے

مجھے کچھ تو تسلی زرد پتوں کو بھی دینی تھی
خزاں میں بھی بہاروں کے اشارے میں نے لکھے تھے

تمہاری آنکھ میں دریا کبھی جو موجزن دیکھا
بپھرتی غم کی موجوں پر کنارے میں نے لکھے تھے

مرے ماضی کے سب اوراق سے لے لو گواہی تم
کس کے ساتھ جو لمحےگزارے میں نے لکھے تھے

مقدر سے شکایت کیا نصیبوں سے گلہ کیسا
خود اپنے ہاتھ سے اپنے خسارے میں نے لکھے تھے

تمہارا سایہ بھی انؔور ہوا جب تم سے نالاں تھا
بہت ہی تم اکیلے تھے سہارے میں نے لکھے تھے

انور ضیا مشتاق

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم