کہیں پہ چاند جگنو اور ستارے میں نے لکھے تھے
اندھیرے میں کئی روشن نظارے میں نے لکھے تھے
مجھے کچھ تو تسلی زرد پتوں کو بھی دینی تھی
خزاں میں بھی بہاروں کے اشارے میں نے لکھے تھے
تمہاری آنکھ میں دریا کبھی جو موجزن دیکھا
بپھرتی غم کی موجوں پر کنارے میں نے لکھے تھے
مرے ماضی کے سب اوراق سے لے لو گواہی تم
کس کے ساتھ جو لمحےگزارے میں نے لکھے تھے
مقدر سے شکایت کیا نصیبوں سے گلہ کیسا
خود اپنے ہاتھ سے اپنے خسارے میں نے لکھے تھے
تمہارا سایہ بھی انؔور ہوا جب تم سے نالاں تھا
بہت ہی تم اکیلے تھے سہارے میں نے لکھے تھے
انور ضیا مشتاق