میں خوش تھا بہت گردشِ ایام سے پہلے
مسکان مرے لب پہ تھی کہرام سے پہلے
اس شرط پہ رخصت میں تمہیں کرنے لگا ہوں
تم لوٹ کر آجاؤ اگر شام سے پہلے
دن سر پہ اٹھائے ہوئے دن بھر میں تھکا ہوں
اب بوجھ شبِ غم کا ہے آرام سے پہلے
دے دے کے دلاسے یونہی بہلا یا ہے دل کو
خوشیاں بھی تو ملتی رہیں آلام سے پہلے
انصاف نے انصاف کی دیکھیں ہیں نظیریں
منصف نے لکھا فیصلہ الزام سے پہلے
شاید یہ مرے عشق کی معراج ہے انؔور
آتا ہے ترا نام مِرے نام سے پہلے
انور ضیا مشتاق