اِک وَرق تھا جسے کتاب کیا
جب رقم زندگی کا باب کیا
میں نے غم کو خوشی میں ڈھالا ہے
میں نے کانٹے کو بھی گلاب کیا
وسوسوں کی بلاؤں نے شاید
سانس لینا مرا عذاب کیا
بس خسارا خسارا چاہت تھی
یہ کھلا میں نے جب حساب کیا
اشک اشکوں میں ہی ڈبوئیں ہیں
غم ترا میں نے زیرِ آب کیا
رتجگوں نے یہ مہربانی کی
مرے خوابوں کو خواب خواب کیا
تری نفرت سے بھی محبت کی
یوں گنہ کو بھی اِک ثواب کیا
پیاس کی بے نیازی نے انؔور
ایک دریا کو بھی سراب کیا
انور ضیا مشتاق