MOJ E SUKHAN

افشاء تو اپنی ذات کر کچھ بات کر

افشاء تو اپنی ذات کر کچھ بات کر
کچھ تابش جذبات کر کچھ بات کر

شاید ترے لفظوں سے کوئی جی اٹھے
اپنا سخن خیرات کر کچھ بات کر

یہ خامشی تو زہر ہے مت پی اسے
چاہے خود اپنے ساتھ کر کچھ بات کر

کچھ تو دکھا اپنے سخن کا معجزہ
الفاظ کی برسات کر کچھ بات کر

یہ چپ تری ظلمت نہ بن جائے کہیں
کچھ روشنی سوغات کر کچھ بات کر

اک ساتھ رہ کر بھی جو ہم تنہا رہیں
پیدا نہ وہ حالات کر کچھ بات کر

بے گانگی اچھی نہیں سب سے قمر
کچھ بات کر کچھ بات کر کچھ بات کر

اقبال قمر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم