وہ ایک عہد جو عہد وصال تھا ہی نہیں
ترا کرم تھا وہ میرا کمال تھا ہی نہیں
وہاں کسی کی زباں پر سوال تھا ہی نہیں
قبول کرنا تھا بس قیل و قال تھا ہی نہیں
میں خوش گمان تری نگہ التفات پہ ہوں
وگرنہ زخموں کا تو اندمال تھا ہی نہیں
ترے مزاج سے دل بد گمان ہو گیا ہے
کہ اس سے پہلے تو شیشے میں بال تھا ہی نہیں
محاصرے میں ہے تو اپنی خوش کلامی کے
الجھ گیا ہے تو جس میں وہ جال تھا ہی نہیں
وہ چشم ناز کہ اذن سفر دیا جس نے
وہ روک لیتی تو رکنا محال تھا ہی نہیں
تو کیا تمام ہوا سلسلہ محبت کا ؟
تھا سیل عشق تو اس کو زوال تھا ہی نہیں
وہ بے خودی تھی جو لپٹی ہوئی تھی قدموں سے
کہ ہوش میں کوئی محو دھمال تھا ہی نہیں
اقبال قمر