MOJ E SUKHAN

وہ ایک عہد جو عہد وصال تھا ہی نہیں

وہ ایک عہد جو عہد وصال تھا ہی نہیں
ترا کرم تھا وہ میرا کمال تھا ہی نہیں

وہاں کسی کی زباں پر سوال تھا ہی نہیں
قبول کرنا تھا بس قیل و قال تھا ہی نہیں

میں خوش گمان تری نگہ التفات پہ ہوں
وگرنہ زخموں کا تو اندمال تھا ہی نہیں

ترے مزاج سے دل بد گمان ہو گیا ہے
کہ اس سے پہلے تو شیشے میں بال تھا ہی نہیں

محاصرے میں ہے تو اپنی خوش کلامی کے
الجھ گیا ہے تو جس میں وہ جال تھا ہی نہیں

وہ چشم ناز کہ اذن سفر دیا جس نے
وہ روک لیتی تو رکنا محال تھا ہی نہیں

تو کیا تمام ہوا سلسلہ محبت کا ؟
تھا سیل عشق تو اس کو زوال تھا ہی نہیں

وہ بے خودی تھی جو لپٹی ہوئی تھی قدموں سے
کہ ہوش میں کوئی محو دھمال تھا ہی نہیں

اقبال قمر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم