MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جلاوں جاں بھی تو اتنا دکھائی دیتا ہے

جلاوں جاں بھی تو اتنا دکھائی دیتا ہے
چہار سمت اندھیرا دکھائی دیتا ہے

یہ آئنوں سے مری جنگ کا نتیجہ ہے
کہ میرا عکس ادھورا دکھائی دیتا ہے

ہمارے عشق کا موسم ہمارا ماہِ تمام
ہماری آنکھ کا سپنا دکھائی دیتا ہے

یہ تیرا عکسِ محبت ترا خیال ہے یہ
جو میرا شعر چمکتا دکھائی دیتا ہے

اسے بتاو اڑانوں میں مار دیتے ہیں
الگ پرندہ جو اڑتا دکھائی دیتا ہے

اسے بتاو سمندر ہے عشق کی منزل
جو موج موج میں بہتا دکھائی دیتا ہے

بشر یہ عشق تو جیسے کوئی کرامت ہے
مجھے تو دشت بھی دریا دکھائی دیتا ہے

مبشر سلیم بشر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم