MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

لوٹ کر آیا نہیں جب سے نکالا گیا ہے

لوٹ کر آیا نہیں جب سے نکالا گیا ہے
دل مرا عشق کے منصب سے نکالا گیا ہے

جس پہ یہ کفر کا فتوی تھا وہی حق پر تھا
کیسے درویش کو مذہب سے نکالا گیا ہے

ان دریچوں پہ بچھی روشنی تاروں جیسی
چاند بادل سے بڑے ڈھب سے نکالا گیا ہے

فیصلہ ہے مری قسمت کا تو منظور ہے یہ
مرا مہتاب مری شب سے نکالا گیا ہے

اس کا یہ جرم کہ سچ بول دیا تھا اس نے
ایک جوکر تھا جو کرتب سے نکالاگیا ہے

یہ عدالت تھی تری فیصلہ بھی تھا تیرا
بول تیرا تھا مرے لب سے نکالا گیا ہے

سر چڑھی رہتی ہے اک یادِ جنوں ذاد مجھے
عکسِ جانان تھا جو چھب سے نکالا گیا ہے

اسکی دہلیز پہ بیٹھا ہے بشر رنجیدہ
کتنا خاموش ہے وہ جب سے نکالا گیا ہے

مبشر سلیم بشر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم