MOJ E SUKHAN

خواب جیسا حُس٘ن تھا یا آئنہ رکھا ہوا

خواب جیسا حُس٘ن تھا یا آئنہ رکھا ہوا
عشق نے تھا ہر تَمَنّا کو ہرا رکھا ہوا

میں نے تو سارے دَرِیچوں میں دیے رَوشَن کئے
اب ہوا کے ہاتھ مِیں ہے فَیص٘لَہ رکھا ہوا

کس نے دریا کے بَہاو سے نہ پوچھا راستہ
کس نے لَہ٘روں کی جَبِیں پر تھا گَھڑا رکھا ہوا

مجھ جُنُوں نِس٘بت کو بھی وَحشت مُيَسَّر آ گئی
خواہشِ دیوار نے تھا مُب٘تِلا رکھا ہوا

زندگی سے اتنی اُمیدیں نہ بان٘دھو تم، کہ یہ
بہتے پانی پر ہے کوئی بُلبُلا رکھا ہوا

مُدَّتوں کے بعد اس نے بھی پُکارا ہے مجھے
اب ہمارے دَر٘مِیاں ہے فاصِلَہ رکھا ہوا

ہر پَرِیشاں سوچ تھی میرے یَقِینوں کی بشؔر
ہر گُماں کے شَہَر میں تھا وَس٘وَسَہ رکھا ہوا

مبشر سلیم بشؔر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم