Rehbar e Koon o makaan Afsoos Hay
رہبرکون و مکاں افسوس ہے
سوئے دوزخ سب رواں افسوس ہے
چل پڑی ہے خود پرستی کی ہوا
سب کو ہے فکرزیاں افسوس ہے
اب جنون_عشق میں سودا نہیں
اب محبت ہے دکاں افسوس ہے
کوئی تارے توڑنے آتا نہیں
ہے فلک گریہ کناں افسوس ہے
اب یہاں گل ہے نہ خوشبو ہے نہ رنگ
ایسا اجڑا گلستاں افسوس ہے
ہر طرف بے چار گی چھائی ہوئی
اور خدا جانے کہاں افسوس ہے
ہے زمیں پیروں تلے جلتی ہوئی
سر کے اوپر آسماں افسوس ہے
اب یہاں کچھ بھی نظر آتا نہیں
ہر طرف ثاقب دھواں افسوس ہے
رانا افتخار احمد ثاقب
Rana Iftikhar Ahmed Saqib