MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جنون عشق کسی کو بھی یوں نہ راس آئے

غزل

جنون عشق کسی کو بھی یوں نہ راس آئے
وہ میرے پاس تو آئے مگر اداس آئے

جسے حیات کسی رخ سے بھی نہ راس آئے
کسی کے پاس نہ جائے ہمارے پاس آئے

وہاں سے جلد گزر جائیں رہروان حیات
جہاں بھی راہ میں کوئی مقام یاس آئے

فراق و وصل کی روداد مختصر یہ ہے
کبھی وہ پاس سے گزرے کبھی وہ پاس آئے

کچھ ایسے لوگ بھی دیکھے جو بزم جاناں میں
اداس اداس گئے اور اداس اداس آئے

یہ اضطراب نہیں نعمت مسلسل ہے
خدا کرے کوئی عالم مجھے نہ راس آئے

کسی نے ایک اشارے کو بھی نہیں سمجھا
حضور دوست بہت سے ادا شناس آئے

غم حیات و غم دہر بخشنے والے
اک ایسا غم بھی عطا کر جو دل کو راس آئے

ادب میں کیفؔ کا دم بھی بہت غنیمت ہے
محال ہے کہ اب ایسا سخن شناس آئے

کیف مرادآبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم