MOJ E SUKHAN

وہ قریب بھی ہیں تو کیا ہوا ہمیں اپنے کام سے کام ہے

غزل

وہ قریب بھی ہیں تو کیا ہوا ہمیں اپنے کام سے کام ہے
وہی جستجو وہی بے خودی وہی زندگی کا نظام ہے

طلب ارتقا کی اساس ہے کہ غم اسیری کا نام ہے
کہ جہاں چمن ہے وہیں قفس جہاں دانہ ہے وہیں دام ہے

ہمہ وقت مجھ کو یہی ہے غم کہ انہیں ہے میرا خیال کم
مگر اس کی فکر کبھی نہیں کہ مرا جنوں بھی تو خام ہے

مجھے میکدے میں کسی نے کل یہ بتایا مسلک عاشقی
جسے بادہ وجہ سرور ہو اسے بادہ پینا حرام ہے

یہ ہے شان محفل عاشقی کہ طویل عرصہ گزر کے بھی
وہی بت کدہ کی سی صبح ہے وہی میکدے کی سی شام ہے

یہ ہے کیسا عالم بے خودی نہیں ہوش ان کی رضا کا بھی
جو یہی ہے کیفؔ جنون غم تو جنون غم کو سلام ہے

کیف مرادآبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم