MOJ E SUKHAN

اک نظم

اک نظم

میں
حیات مہمل کی جستجو میں

سفر زمانے کا کر چکا ہوں
میں اک جواری کی طرح ساری بساط اپنی لٹا چکا ہوں

میں آدمی کے عظیم خوابوں کی سلطنت بھی گنوا چکا ہوں
نہ جیب رخت سفر کا تحفہ لیے ہوئے ہے

نہ ذہن میرا کسی تصور کا دکھ اٹھانے
کسی محبت کا بوجھ سہنے کے واسطے اختلال میں ہے

میں فاتح کی طرح چلا تھا
جو راستے میں ملے مجھے

وہ تیغ میری سے کٹ گئے تھے
میں زائروں کے لباس میں

قرض خوں بہا کا اتارنے، سر منڈا کے یوں ہی نکل گیا تھا
کہ لوٹ آؤں گا

ایک دن
پھر بتاؤں گا میں حیات مہمل کا راز کیا ہے؟

یہ خواب ہے یا خیال ہے؟
میں حیات مہمل کی جستجو میں

سفر زمانے کا کر چکا ہوں
میں بے نوا بے گیاہ اور بے ثمر شجر ہوں

جو سو زمانوں کی دھول میں بے بصر بھکاری کی طرح
اپنی ہی آستیں میں لرز رہا ہے!

انیس ناگی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم