MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ضمیر کے مجرم کا خواب نظم

نظم

مرا مقدر عجیب ہے
میں طویل راتوں کا وہ دیا ہوں

جو اک لگن سے
ضمیر مجرم کے خواب میں کپکپا رہا ہوں

اسے ملے گی نجات مجھ کو پتا نہیں ہے
میں تیرگی کا تضاد ہوں

اور ضمیر مجرم کا خواب ہوں

انیس ناگی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم