MOJ E SUKHAN

اک نظم

اک نظم

رفتہ رفتہ سب آوازیں
جو دل کے اندر ہیں

اور باہر
اک ایسے سکتے میں کھو جائیں گی

جس کا مفہوم ابھی تک
کسی اشاعت گھر کے حرفوں میں ڈھلا نہیں ہے

آثار قدیمہ کے ماہر
مدفون پرانے شہر کے اندر باہر سے کھود چکے ہیں

لیکن اس کا مفہوم ابھی تک
کسی عمارت کی شاہ گردش کی محرابوں میں

اور کسی چار آئینے کے رستے گھاؤ میں ملا نہیں ہے
جس کو اس کا راز ملے وہ حسب ذیل پتے پر پہنچا دے

انیس ناگی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم