MOJ E SUKHAN

کس قدر روح پشیماں ہے تمہیں کیا معلوم

کس قدر روح پشیماں ہے تمہیں کیا معلوم
کب کہاں کون پریشاں ہے تمہیں کیا معلوم

میرے افکار پہ احساس کا صحرا حاوی
اور تخیل میں گلستاں ہے تمہیں کیا معلوم

ان کے ماحول پہ رقصاں ہیں بہاریں نغمے
میرا ہر گیت غم جاں ہے تمہیں کیا معلوم

رات بے چین ہے آنکھوں میں سمٹنے کے لئے
تیرگی زیست کا عنواں ہے تمہیں کیا معلوم

کل جو تھا سنگ گراں شہر وفا میں منظرؔ
آج وہ لعل بدخشاں ہے تمہیں کیا معلوم

جاوید منظر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم