MOJ E SUKHAN

خیر خواہوں سے بھی ملا کیجے

خیر خواہوں سے بھی ملا کیجے
دل کی دستک کو بھی سنا کیجے

لوٹ کر جلد آئے گا اس کے
نقش پا دیکھتے رہا کیجے

گر وہ کرنا ہے جو کہے دل تو
پھر کسی سے نہ مشورہ کیجے

دوستوں سے مل کے آستینں
احتیاطاً جھٹک دیا کیجئے

اک نظر دیکھنے پہ کوئی
پھول بھیجے اگر تو کیا کیجے ؟

دوسروں کو نہ دیکھئے صاحب
آپ کا ہے جو حق ادا کیجے

جو کہیں دوسرے وہ سن لیں مگر
آئنہ دیکھتے رہا کیجے

دل میں رکھ کر قبولیت کا یقیں
کیجئے دل سے جو دعا کیجے

ہے صبیحہ وہ ظلم کا خوگر
اس سے کیا اس کا پھر گلہ کیجے

صبیحہ خان صبیحہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم