MOJ E SUKHAN

جا رہا ہے اپنی منزل کی طرف ماہ تمام

جا رہا ہے اپنی منزل کی طرف ماہ تمام
جیسے قبروں کے مجاور جیسے مسجد کے امام

خانقاہوں میں ہوا کرتا ہے جیسے بالعموم
شیخ کی خدمت میں حاضر ہے مریدوں کا ہجوم

اس طرح محراب میں رکھی ہے الہامی کتاب
جیسے اک زاہد کا ایماں جیسے اک باسی گلاب

طاق میں رکھی ہوئی ہے اک طرف اک جانماز
عود کی خوشبو سے ہے مہکا ہوا ہر پاکباز

محو ہے ذکر خفی میں زاہد شب زندہ دار
بیٹھے بیٹھے چونک پڑتا ہے مگر بے اختیار

پیر صاحب ہی نہیں ہر شخص ہے کھویا ہوا
ناگہاں ان میں سے اک یوں با ادب گویا ہوا

ہادئ راہ طریقت مرشد روشن ضمیر
آسمان عزم و استقلال کے مہر منیر

کیا کبھی عورت کا نظارہ بھی کر سکتا ہوں میں
کیا کبھی اس راہ سے آساں گزر سکتا ہوں میں

دیکھنا اس کی طرف ہرگز نہ اے مرد جواں
ورنہ مٹ جائے گا پیشانی سے سجدے کا نشاں

آپ کا ارشاد سر آنکھوں پہ لیکن ڈر یہ ہے
چبھ نہ جائے پھانس بن کر دل میں یہ نازک سی شے

یاد رکھ دل پر نہ ہونے پائے عورت کا اثر
مسکرائے بھی اگر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر

اک ذرا سی بات ہی کر لوں تو کیا ہو جائے گا
بس یہی نا آپ سا رہبر خفا ہو جائے گا

تجھ کو اپنی فکر کرنی چاہیے ہر حال میں
اچھے اچھے لوگ آ جاتے ہیں اس کی چال میں

اس پہ لعنت ہو خدا کی یہ ہے شیطانوں کی راہ
سینکڑوں مردوں کو کر دیتی ہے اک پل میں تباہ

گفتگو یہ ختم ہونے بھی نہ پائی تھی ابھی
ایک عورت گود میں بچہ لیے داخل ہوئی

پیر گھبرائے مریدوں کو پسینہ آ گیا
زندگی کا ہر تخیل موت بن کر چھا گیا

چاطر حکیمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم