MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ابر برسے گا تو پیاسا نہیں رہنے دے گا

ابر برسے گا تو پیاسا نہیں رہنے دے گا
تری وحشت کا یہ صحرا نہیں رہنے دے گا

عزمِ راسخ ہی ترا رہنما بن جائے گا
کوئی رستہ بھی ادھورا نہیں رہنے دے گا

یہ جو فرعون نما لوگ نظر آتے ہیں
آسماں ان کا یہ طرہ نہیں رہنے دے گا

دن نیا ہوگا تو جاگیں گی امنگیں دل میں
کوئی غم کوئی بھی نوحہ نہیں رہنے دے گا

گردشِ شام و سحر رنگ بھی دکھلائے گی
یہ جو ہے وقت کا چہرہ نہیں رہنے دے گا

دور بدلے گا تو سب گھاؤ بھی بھر جائیں گے
آنکھوں میں تیری یہ دریا نہیں رہنے دے گا

وقت ظالم ہے صبیحہ ذرا تو دھیان سے سن
اب کھنکتا ترا سکہ نہیں رہنے دے گا

صبیحہ خان صبیحہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم