MOJ E SUKHAN

کڑے سفر کی ہر اک فکر ٹال دیتا ہے

کڑے سفر کی ہر اک فکر ٹال دیتا ہے
وہ لطف ایسا جدائی میں ڈال دیتا ہے

ہزار رنگ بدلتا ہے صبح ہونے تک
کبھی خوشی، کبھی رنج و ملال دیتا ہے

وہ بولتا ہے تو صدیوں پرانے لفظوں کو
نئے معانی ، نئے خد و خال دیتا ہے

نئی ہے طرزِ عنایت کہ اب کسی کو بھی
وہ پورا ہجر نہ پورا وصال دیتا ہے

یہ کون ہے جو مری ذات کی فصیلوں سے
ہر ایک شب مجھے باہر نکال دیتا ہے

وہ ایک بار نظر بھر کے دیکھتا ہے جسے
پھر اُس کا نام زمانہ اُچھال دیتا ہے

وہ اپنے چاہنے والوں کی انجمن میں نعیم
مری وفاؤں کی اب بھی مثال دیتا ہے

(محمد نعیم جاوید نعیم)

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم