MOJ E SUKHAN

بم دھماکہ

سرما کی بے رحم فضا میں
سرخ لہو نے بہتے بہتے
حیرانی سے
تپتی ہوئی اس خاک کو دیکھا
ابھی تو میں ان نیلی گرم رگوں میں
کیسے دوڑ رہا تھا
بجھتی ہوئی اک سانس کی لو نے
اپنے ننھے جیون کی
اس آخری تیز کٹیلی ہچکی کو جھٹکا
دو خالی نظریں
دور دھویں کے پار
کہیں کچھ ڈھونڈ رہی تھیں
ابھی ابھی تو نیلا امبر
باہیں کھولے تنا کھڑا تھا
مندی مندی سی دھوپ
یہاں کونے میں آ کر لیٹ گئی تھی
پھر کس نے اس جیتے جاگتے
منظر میں یہ آگ بھری ہے
کالی فضا میں اڑتے ریشے
آدھی ادھوری بے بس لاشیں
سرخ لہو نے حیرانی سے
جلے ہوئے منظر کو دیکھا
آخری تیز کٹیلی ہچکی
ٹوٹ رہی تھی

گلناز کوثر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم