MOJ E SUKHAN

رات ہر بار لیے

رات ہر بار لیے
خوف کے خالی پیکر
خوں مرا مانگنے
بے خوف چلی آتی ہے
اور جلتی ہوئی آنکھوں کے
تحیر کے تلے
ایک سناٹا
بہت شور کیا کرتا ہے
کچھ تو کٹتا ہے
تڑپتا ہے
بہاتا ہے لہو
اور کھل جاتے ہیں
ریشوں کے پرانے بخیے
رات ہر بار مری
جاگتی پلکیں چن کر
اندھے گمنام دریچوں پہ
سجا جاتی ہے
اور دھندلائے ہوئے
گرد زدہ رستوں میں
ایک آہٹ کا سرا ہے
جو نہیں ملتا ہے
آسماں گیلی چٹانوں پہ
ٹکائے چہرہ
سسکیاں لیتا ہے
سہمے ہوئے بچے کی طرح
اور دریچوں پہ دھری
کانپتی پلکیں میری
گل زمینوں کے نئے
خواب بنا کرتی ہیں

گلناز کوثر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم