MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

میں نہیں ہوں مگر

میں نہیں ہوں مگر
اب بھی کھلتے ہیں کھڑکی کے دائیں طرف
پھول بل کھائی الجھی ہوئی بیل پر
زندگی کے کسی فیصلے کی
گھڑی سے الجھتے ہوئے
میں کھرچتا رہا تھا یہ روغن
جمی ہے یہاں آج تک
ننھے دھبے میں اک
بے کلی میرے احساس کی
اور قالین پر
میری پیالی سے چھلکی ہوئی
چائے کا اک پرانا نشاں
اب بھی تکتا ہے مٹیالی آنکھوں سے
چھت کی طرف
آج بھی ہیں پڑی شیلف پر
جو کتابیں خریدی تھیں
میں نے بہت پیار سے
آج بھی ہیں جڑے
کاغذوں کے حسیں آئینوں میں
مری سوکھی پوروں سے پھوٹے ہوئے
کالے حرفوں کے چہرے عجب شان سے
میں تو حیران ہوں
مجھ سے منسوب ہر ایک شے
جوں کی توں ہے تو کیا
ایک میں ہی تھا جو
ایک میں ہی تھا پانی کے
سینے پہ رکھا ہوا نقش جو
پل دو پل کو بنا اور مٹ بھی گئی

گلناز کوثر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم