MOJ E SUKHAN

یاد نہیں ہے

دھیرے دھیرے بہنے والی
ایک سلونی شام عجب تھی
الجھی سلجھی خاموشی کی
نرم تہوں میں
سلوٹ سلوٹ بھید چھپا تھا
سردیلی مخمور ہوا میں
میٹھا میٹھا لمس گھلا تھا
دھیرے دھیرے
خواب کی گیلی ریت پہ اترے
درد کے منظر پگھل رہے تھے
خواہش کے گمنام جزیرے
ساحل پر پھیلی خوشبو کے
مرغولوں کو نگل رہے تھے
دھیرے دھیرے
جانے کون سے موسم کے
دو پھول کھلے تھے
شہد بھری سرگوشی سن کر
جھکے جھکے سے
ہونٹ ہنسے تھے
بڑھنے لگا تھا ایک انوکھا
سن سن کرتا
بے کل نغمہ
یاد نہیں ہے
کہاں گرے تھے
میری بالی
اس کا چشمہ

گلناز کوثر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم