MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

خلا کے دشت میں یہ طرفہ ماجرا بھی ہے

خلا کے دشت میں یہ طرفہ ماجرا بھی ہے
وہ آسمان جو سر پر تھا زیر پا بھی ہے

ہوا کے دوش پہ اک سرمئی لکیر کے ساتھ
مری تلاش میں شاید مری صدا بھی ہے

ڈرا ہوں یوں کبھی تنہائیوں کی آہٹ سے
کہ جیسے مجھ میں کوئی شے مرے سوا بھی ہے

بہت عزیز ہے مجھ کو یہ برگ‌ نو جس میں
زمیں کا حسن بھی ہے شوخیٔ صبا بھی ہے

مری جفا طلبی کا خیال ہے اس کو
وگرنہ پیار کا انداز دوسرا بھی ہے

رگ حیات میں رقصاں مری توانائی
میں کیسے مان لوں میرے لیے فنا بھی ہے

حسن جلیل اختر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم