MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دکھوں کے روپ بہت اور سکھوں کے خواب بہت

دکھوں کے روپ بہت اور سکھوں کے خواب بہت
ترا کرم ہے بہت پر مرے عذاب بہت

تو کتنا دور بھی ہے کس قدر قریب بھی ہے
بڑا ہے ہجر کا صحرائے پر سراب بہت

حقیقت شب ہجراں کے راز کھوئے گئے
طویل دن ہیں بڑے راستے خراب بہت

چلیں گے کتنا ترے غم کے ساتھ ساتھ قدم
شکنجہ ہائے زمانہ ہیں بے حساب بہت

اتر گیا ہے خمار شراب ذات کہیں
ہوئے ہیں گردش دوراں سے فیضیاب بہت

تنویر انجم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم