MOJ E SUKHAN

شب کی دہلیز سے کس ہاتھ نے پھینکا پتھر

شب کی دہلیز سے کس ہاتھ نے پھینکا پتھر
ہو گیا صبح کا مہکا ہوا چہرہ پتھر

کچھ انوکھی تو نہیں میری محبت کی شکست
آئنے جب بھی مقابل ہوئے جیتا پتھر

اس طلسمات کی وادی میں پلٹ کر بھی نہ دیکھ
ورنہ ہو جائے گا خود تیرا سراپا پتھر

یاد کی لہر بہا لائی ہے کس دیس مجھے
ہے یہاں وقت کا بہتا ہوا دریا پتھر

کس کے پیکر میں سماتا مرے احساس کا لوچ
میں نے انساں سے خجل ہو کے تراشا پتھر

تیری آنکھوں میں ابھی نیند کے ڈورے کیوں ہیں
یاں تو اک چوٹ سے ہو جاتے ہیں بینا پتھر

کند کر دیتا ہے یوں ذہن کو حالات کا زہر
جیسے بن جائے چمکتا ہوا سونا پتھر

تیری سوچوں کی قسم اے مرے خاموش خدا
مجھ سے کرتے ہیں اطاعت کا تقاضا پتھر

مجھ سے مایوس نہ پلٹے مری تقدیر کے غم
میری انگلی میں نہ تھا کوئی چمکتا پتھر

کتنی دل دار ہے ساحل کی چمکتی ہوئی ریت
اب نہیں پاؤں تلے کوئی نکیلا پتھر

میں سر دار کھڑا ہوں کئی صدیوں سے جلیلؔ
کون مارے گا مرے جسم پہ پہلا پتھر

حسن جلیل اختر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم