MOJ E SUKHAN

بستیاں تو آسماں لے جائیں گے

بستیاں تو آسماں لے جائیں گے
یہ سمندر کس کنارے جائیں گے

فاصلوں میں زندگی کھو جائے گی
گنبدوں میں خواب دیکھے جائیں گے

تم کسی منظر میں سن لینا ہمیں
ہم کبھی گونجوں میں ڈھلتے جائیں گے

دور تک یہ راستے خاموش ہیں
دور تک ہم خود کو سنتے جائیں گے

اک دفعہ کی نیند کیسا جرم ہے
عمر بھر ہم تم کو ڈھونڈے جائیں گے

تنویر انجم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم