MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کبھی وہ مثل گل مجھے مثال خار چاہئے

کبھی وہ مثل گل مجھے مثال خار چاہئے
کبھی مزاج مہرباں وفا شعار چاہئے

جبین خود پسند کو سزائے درد یاد ہو
سر جنون کوش میں خیال دار چاہئے

فریب قرب یار ہو کہ حسرت سپردگی
کسی سبب سے دل مجھے یہ بے قرار چاہئے

غم زمانہ جب نہ ہو غم وجود ڈھونڈ لوں
کہ اک زمین جاں جو ہے وہ داغ دار چاہئے

وہ آزمائش جنوں وہ امتحان بے خودی
ہ صحبت تباہ کن پھر ایک بار چاہئے

تنویر انجم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم