MOJ E SUKHAN

شہروں کے سارے جنگل گنجان ہو گئے ہیں

شہروں کے سارے جنگل گنجان ہو گئے ہیں
پھر لوگ میرے اندر سنسان ہو گئے ہیں

ان دوریوں کی مشکل آنکھوں میں بجھ گئی ہے
ہم آنسوؤں میں بہہ کر آسان ہو گئے ہیں

ایسی خموشیاں ہیں سب راستے جدا ہیں
الفاظ میں جزیرے ویران ہو گئے ہیں

تم برف میں نہ جانے کب سے جمے ہوئے ہو
ہم جانے کس ہوا کا طوفان ہو گئے ہیں

جسموں کی سردیوں میں پھر جل گئے ہیں رشتے
سب ایک دوسرے کے مہمان ہو گئے ہیں

تنویر انجم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم