MOJ E SUKHAN

اظہار جنوں بر سر بازار ہوا ہے

اظہار جنوں بر سر بازار ہوا ہے
دل دست تمنا کا گرفتار ہوا ہے

بے ہوش گنہ جو دل بیمار ہوا ہے
اک شوق طلب سا مجھے تلوار ہوا ہے

صحرائے تمنا میں مرا دل تجھے پا کر
شہر ہوس آلود سے بیزار ہوا ہے

بے ہوش خرد کو جنوں آگاہ کرے گا
یہ جذب جو آمادۂ پیکار ہوا ہے

میں وصل کی شب رقص غم آمیز کروں گی
اک درد مرا ہم شب بے دار ہوا ہے

اس درجہ نشہ کب ہے کہ گمراہ رہوں میں
یہ ہوش مرا دشمن دشوار ہوا ہے

ٹوٹی ہے یہ کشتی تو مرے ساتھ سفر کو
وہ جان مسافت مرا تیار ہوا ہے

اس خوبیٔ قسمت پہ مجھے ناز بہت ہے
وہ شخص مری جاں کا طلب گار ہوا ہے

میں آئینۂ دل کو سر خواب ہی توڑوں
اس دشت شناسا کا یہ اصرار ہوا ہے

کچھ کام کب آیا ہے مرا گریۂ شب بھی
اسراف دل و جاں مرا بے کار ہوا ہے

تنویر انجم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم