MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

بلاؤ اس کو زباں داں جو مظہریؔ کا ہو

غزل

بلاؤ اس کو زباں داں جو مظہریؔ کا ہو
مگر ہے شرط کہ اکیسویں صدی کا ہو

یقیں وہی ہے جو آغوش تیرگی میں ملے
سواد وہم میں ہم سایہ روشنی کا ہو

بتوں کو توڑ کے ایسا خدا بنانا کیا
بتوں کی طرح جو ہم شکل آدمی کا ہو

مرا غرور نہ کیوں ہو سرور سے خالی
جب اس کے بھیس میں اک چور کم تری کا ہو

بہت بجا ہے یہ مذہب کی موت پر ماتم
مگر کوئی تو عزا دار شاعری کا ہو

ہے وقت وہ کہ مسلم ہو آذری اس کی
صنم کدوں میں صنم ذہن مظہریؔ کا ہو

جمیل مظہری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم