MOJ E SUKHAN

ہر ایک در پہ سر کو ٹپکنے کے باوجود

غزل

ہر ایک در پہ سر کو ٹپکنے کے باوجود
کعبہ پہنچ گیا ہوں بھٹکنے کے باوجود

کیا کیجیئے کہ گرد طلب کی جمی رہی
دامان دل کو روز جھٹکنے کے باوجود

شاید کھلی ہے آپ کے آنے سے چاندنی
دھندلی سی لگ رہی تھی چھٹکنے کے باوجود

کیسا ہے یہ بہار کا موسم کہ باغ میں
ہنستی نہیں ہیں کلیاں چٹکنے کے باوجود

ہم بھی کتاب زیست کو پڑھتے چلے گئے
ایک ایک حرف غم پہ اٹکنے کے باوجود

اب کے جنوں میں عالم شوریدگی نہ پوچھ
قائم رہا ہے سر کو پٹکنے کے باوجود

راحت گزار دی ہے بڑی شان سے حیات
آنکھوں میں زندگی کی کھٹکنے کے باوجود

اوم کرشن راحت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم